ایران امریکا معاہدہ نافذ العمل، شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کر دیے، آبنائے ہرمز کھل گئی

امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکمل، وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث معاہدے کی توثیق کر دی۔ معاہدے کے تحت جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز 19 جون سے ہوگا
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث اس تاریخی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔
وزیراعظم آفس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط پہلے ہی موجود تھے، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ثالثی کردار کے تحت معاہدے پر دستخط کر کے اسے باضابطہ طور پر نافذ العمل قرار دے دیا۔

اعلامیے کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں دستخط کیے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر مسعود پزشکیان کی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد ایم او یو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز 19 جون سے کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ایرانی قیادت، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کی بنیاد ثابت ہوگا۔
شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی مذاکراتی ٹیم کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مؤثر سفارتکاری نے ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت، بے لوث خدمات اور فیصلہ کن کردار کی بدولت یہ تاریخی پیش رفت ممکن ہوئی، جسے خطے میں امن کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 18 جون، 2026 کو 12:41 PM
آخری تدوین: 18 جون، 2026



