ایران پر حملوں میں دو ہفتے کا وقفہ، اسرائیل کی حمایت،لبنان شامل نہیں

ایران پر حملوں کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا کی جانب سے دو ہفتوں کے وقفے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے بھی اس فیصلے کی مشروط حمایت کر دی ہے، جبکہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے امکانات کو بڑھانا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل امریکا کے جنگ بندی اقدام کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ وقفہ لبنان پر لاگو نہیں ہوگا۔ اسرائیل نے شرط رکھی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے بند کرے۔
اسرائیل نے مزید کہا کہ وہ امریکا کی ان کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری، میزائل یا سیکیورٹی خطرہ نہ بنے۔
ادھر سفارتی سطح پر اہم پیش رفت میں ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اس پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، علاقائی کشیدگی اور جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے کے اعلان نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 اپریل، 2026 کو 06:52 AM
آخری تدوین: 8 اپریل، 2026



