وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی، جنگ محدود معاہدے پر ختم کی گئی

W
Web Desk
19 جون، 2026
ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی، جنگ محدود معاہدے پر ختم کی گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی اور جنگ کو بڑے علاقائی و عالمی بحران سے بچنے کے لیے محدود مفاہمتی معاہدے کے ذریعے ختم کیا گیا۔ ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا

(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو فوجی طور پر مکمل شکست دی اور ایرانی قیادت غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے قریب پہنچ چکی تھی، تاہم خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے جنگ کو ایک محدود مفاہمتی معاہدے کے ذریعے ختم کیا گیا۔

ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ایسے حساس مرحلے میں داخل ہو گیا تھا جہاں مزید فوجی کارروائیاں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوتا تو آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی تھی، جس سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور عالمی معاشی بحران پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج نے جنگ کے دوران اپنے تمام اہم عسکری اہداف حاصل کیے، جبکہ اس کارروائی نے دنیا پر امریکا کی عسکری برتری کو مزید واضح کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، کشیدگی کم کرنے اور مستقبل کے سفارتی مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے جنگ کے دوران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور وقار کا کامیابی سے دفاع کیا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔

ادھر امریکا میں بعض ریپبلکن رہنماؤں اور سیاسی ناقدین نے بھی معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو دی جانے والی بعض رعایتیں واشنگٹن کے سابقہ پالیسی اہداف سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ان کے اثرات مستقبل میں زیرِ بحث رہ سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار آئندہ مذاکرات، اعتماد سازی کے اقدامات اور دونوں ممالک کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 19 جون، 2026 کو 03:52 AM

آخری تدوین: 19 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی، خلیج عرب و عمان میں آمدورفت بحال
تازہ ترین

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی، خلیج عرب و عمان میں آمدورفت بحال

امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تصدیق کردی۔ خلیج عرب اور خلیج عمان میں بحری آمدورفت بحال ہوگئی جبکہ امریکی بحری جہاز معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے علاقے میں موجود رہیں گے

Web Desk19 جون، 2026
پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم "اپنا" کے ڈے کیئر  میںکروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار
امریکا

پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم "اپنا" کے ڈے کیئر میںکروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگیا ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

Web Desk19 جون، 2026
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ ایران مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوں گے
تازہ ترین

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ ایران مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوں گے

اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برجنسٹاک میں شروع ہوگا۔ پاکستان اور قطر ثالثی کردار ادا کریں گے

Web Desk19 جون، 2026