آبنائے ہرمز میں خطرے کی سطح انتہائی سنگین، برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا انتباہ

برطانیہ کی میری ٹائم ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں خطرات بدستور انتہائی سنگین ہیں۔ تجارتی بحری ٹریفک میں کمی، بحری قزاقی، بارودی سرنگوں اور نیویگیشن سسٹمز میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے
برطانیہ کی میری ٹائم ایجنسی یو کے ایم ٹی اونے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں خطرے کی سطح بدستور انتہائی سنگین ہے۔
یو کے ایم ٹی او کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی تجارتی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے جبکہ خطے میں بحری قزاقی کا خطرہ بھی شدید سطح پر برقرار ہے۔
بیان کے مطابق 21 اپریل سے 2 مئی کے درمیان پکڑے گئے 3 تجارتی جہاز اب بھی حراست میں ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 2 مئی کو یمن کے ساحل سے تقریباً 10 میل کے فاصلے پر ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے کر صومالی پانیوں کی جانب موڑ دیا گیا تھا، تاہم اس کی موجودہ صورتحال کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
یو کے ایم ٹی او نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں میں بارودی سرنگوں کی موجودگی اور سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹمز میں مداخلت کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے بین الاقوامی بحری تجارت کو خطرات لاحق ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ باب المندب اور خلیج عدن کے قریبی علاقوں میں تجارتی بحری ٹریفک فی الحال مستحکم ہے، اگرچہ حوثیوں کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 22 مئی، 2026 کو 04:51 AM
آخری تدوین: 22 مئی، 2026



