فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری بات چیت میں پاکستان اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کے دورے پر جا رہے ہیں اور ان سے مسلسل رابطہ برقرار ہے۔
مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو امریکا کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ وہ معاہدے کی جانب بڑھتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد کسی مثبت نتیجے تک پہنچا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن معاہدے پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے، تاہم متبادل حکمت عملی بھی تیار رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کو “ٹول ٹیکس” نظام نافذ کرنے سے روکنے کے لیے عالمی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کو بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 22 مئی، 2026 کو 02:14 PM
آخری تدوین: 22 مئی، 2026



