ایرانی سپریم لیڈر کا افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کرنے سے انکار

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
(تہران ) خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک سے باہر بھیجنے سے ایران مستقبل میں ممکنہ حملوں کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے، اسی لیے اس تجویز کو قومی سلامتی کے تناظر میں ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود اتفاقِ رائے کے بعد کیا گیا، جہاں اس معاملے کو دفاعی حکمتِ عملی اور ملکی خودمختاری سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کیلئے جو اہم شرائط رکھی گئی تھیں، ان میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کی بیرونِ ملک منتقلی بھی شامل تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر اسرائیل کو یقین دہانی بھی کرا چکے تھے کہ ایران کے جوہری ذخائر کو بیرونِ ملک منتقل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم ایران کے تازہ مؤقف کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کے مستقبل اور ممکنہ معاہدے کے امکانات پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 21 مئی، 2026 کو 01:16 PM
آخری تدوین: 21 مئی، 2026



