وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کا سینیٹ پارلیمنٹرین کو برطرف کرنے کا مطالبہ، ریپبلکن پارٹی میں شدید اختلافات

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر
21 مئی، 2026
ٹرمپ کا سینیٹ پارلیمنٹرین کو برطرف کرنے کا مطالبہ، ریپبلکن پارٹی میں شدید اختلافات

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ پارلیمنٹرین الزبتھ میک ڈونو کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ وائٹ ہاؤس بال روم سیکیورٹی فنڈنگ منصوبے پر ریپبلکن پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپنے سینیٹ کی غیرجانبدار پارلیمنٹرین الزبتھ میک ڈونوکو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا، جس کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب میک ڈونو نے وائٹ ہاؤس کے متنازع “بال روم سیکیورٹی فنڈنگ” منصوبے کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی تجویز مسترد کر دی۔

سینیٹ پارلیمنٹرین نے فیصلہ دیا کہ اس منصوبے کو “بجٹ ریکنسیلی ایشن” بل میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ سینیٹ کے “برڈ رول” کے قواعد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ریپبلکن قیادت پر “کمزور رویہ” اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پارٹی کو “سخت فیصلے” کرنے ہوں گے۔

یہ فنڈنگ وائٹ ہاؤس کے نئے بال روم اور اس سے منسلک سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے مختص کی گئی تھی۔ منصوبے میں خفیہ سروس کی ضروریات، زیرِ زمین حفاظتی تعمیرات اور اضافی سیکیورٹی اپ گریڈز شامل تھے، تاہم ناقدین نے اسے عوامی ٹیکس کے پیسوں سے تیار کیا جانے والا “شاہانہ منصوبہ” قرار دیا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ کئی ریپبلکن سینیٹرز نے الزبتھ میک ڈونو کے دفاع میں بیانات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینیٹ قوانین کی ماہر اور غیرجانبدار عہدیدار ہیں۔ سینیٹ اکثریتی رہنما John Thune نے بھی عندیہ دیا ہے کہ پارلیمنٹرین کو ہٹانے کا فوری کوئی ارادہ نہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ مسلسل سینیٹ کے “فلبسٹر رول” کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں تاکہ ان کی قانون سازی سادہ اکثریت کے ذریعے منظور ہو سکے۔ تاہم متعدد ریپبلکن سینیٹرز اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ سینیٹ کی روایتی طاقت اور توازن کے نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع صرف ایک فنڈنگ بل تک محدود نہیں بلکہ 2026 کے انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم اور ٹرمپ کے بڑھتے سیاسی دباؤ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 21 مئی، 2026 کو 03:18 PM

آخری تدوین: 21 مئی، 2026

متعلقہ مضامین