وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکا اور ایران جنگ بندی معاہدے کے قریب، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

W
Web Desk
23 مئی، 2026
امریکا اور ایران جنگ بندی معاہدے کے قریب، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے “کافی قریب” پہنچ چکے ہیں

(واشنگٹن) امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور ایران کے افزودہ یورینیم کو بھی “تسلی بخش انداز” میں سنبھالا جائے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف اسی معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں امریکا کو اپنے تمام بنیادی مطالبات حاصل ہوں۔ ان کے مطابق معاہدے میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ ذخائر جیسے حساس معاملات کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ تجاویز میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، بعض ایرانی اثاثوں کی بحالی اور آئندہ مذاکرات جاری رکھنے جیسے نکات شامل ہیں۔

اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے اعلیٰ مذاکراتی نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیا جائے گا کہ جنگ بندی برقرار رکھنی ہے یا دوبارہ کارروائی شروع کرنی ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے امکانات “ففٹی ففٹی” ہیں۔ ان کے بقول یا تو ایک “اچھا معاہدہ” طے پا جائے گا یا پھر امریکا ایران کو “مکمل طور پر تباہ” کر دے گا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور نائب صدرائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل کا جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ حلقے فوری معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ بعض عناصر دوبارہ جنگ شروع کرنے کے حق میں ہیں، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کسی ممکنہ امریکی معاہدے پر تحفظات رکھتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر غور مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے جبکہ مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی جائے گی۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 23 مئی، 2026 کو 05:34 PM

آخری تدوین: 23 مئی، 2026

متعلقہ مضامین