چین میں کوئلے کی کان میں ہولناک دھماکا، 90 مزدور ہلاک، کئی لاپتہ

چین کے شہر چینگ زی کی لیوشین یو کوئلہ کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں 90 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی اور لاپتہ ہو گئے۔ ریسکیو آپریشن جاری، صدر شی جن پنگ نے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا
(چین ) غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ گزشتہ شام اس وقت پیش آیا جب کان میں گیس بھر جانے کے باعث زور دار دھماکا ہوا۔ ابتدائی اطلاعات میں 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں چینی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہونے کی تصدیق کر دی۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت کان کے اندر تقریباً 247 مزدور زیرِ زمین کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب واقعے کی تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے تاکہ دھماکے کی وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
شی جن پنگ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریسکیو آپریشن جلد از جلد مکمل کیا جائے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ چینی صدر نے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین میں کوئلے کی کانوں میں حفاظتی اقدامات کے باوجود ایسے حادثات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں، جن کی بڑی وجہ گیس اخراج اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزیاں بتائی جاتی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 مئی، 2026 کو 08:05 AM
آخری تدوین: 23 مئی، 2026



