ایران کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان

امریکی حملوں کے بعد ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کا اعلان بھی کیا گیا۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
(تہران) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی علاقوں پر تازہ حملوں کے بعد اس نے بحرین، کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی حملوں کے بعد تہران کے مہر آباد ایئرپورٹ، کرج، ابیق اور قزوین میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بعد ازاں ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے نئے مرحلے کے خاتمے کا اعلان کیا۔
ایران نے جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے اڈے اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات سمیت 18 مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
دوسری جانب کویت کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر ملک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کیا جائے گا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے 12 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اردن میں واقع الأزرق ایئر بیس اور کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج کے جدید جنگی طیاروں، جن میں F-35، F-15 اور F-16 شامل ہیں، کو بھی ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد امریکی فوجی تنصیبات اور آپریشنل ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے بھی کیے گئے، جن میں امریکی فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے ریڈار اور کمیونیکیشن اینٹینا کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکا گزشتہ چند روز کے دوران ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر حملے کر چکا ہے۔ ایران نے متعدد بار خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم تہران نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے سخت ردعمل کے بعد اپنی کارروائیاں روکنے پر مجبور ہوا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے اور مختلف ممالک حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 11 جون، 2026 کو 06:49 AM
آخری تدوین: 11 جون، 2026



