پاکستان کی ثالثی اہم، ایران جنگ غیر قانونی ہے، سینیٹر کرس وین ہولن
محمد نعیم اختر
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا
( واشنگٹن ) امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن نے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔

معروف پاکستانی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر مبشر چوہدری کی جانب سے فنڈ ڑیزنگ ایونٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سینیٹر کرس وین ہولن نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستان جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسی جنگ تھی جسے ابتدا ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو شروع نہیں کرنا چاہیے تھا، تاہم وہ پاکستان کی اس کوشش کو سراہتے ہیں جس کے ذریعے تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کو جنگ شروع کرنے کا حق صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب اسے کسی فوری اور واضح خطرے کا سامنا ہو۔ ان کے مطابق ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا کہ ایران امریکہ یا خطے کے دیگر ممالک کے لیے کوئی فوری خطرہ بن رہا تھا۔

کرس وین ہولن نے کہا کہ حتیٰ کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ ایران کی جانب سے کوئی فوری حملے کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے بقول، کسی جاری تنازع یا اختلاف کو بنیاد بنا کر جنگ چھیڑنا بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

امریکی سینیٹر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان خطے میں سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔


محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 11 جون، 2026 کو 05:19 PM
آخری تدوین: 11 جون، 2026



