آئی ایم ایف نے سبسڈی منظور کرتے ہوئے اگلے سال بجلی مہنگی کرنے کی شرط رکھ دی

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کے لیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ جنوری 2027 میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی نئی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے۔
(اسلام آباد) ذرائع کے مطابق اس سبسڈی میں سے تقریباً 300 ارب روپے بجلی چوری اور بلوں کی کم وصولی سے ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ بڑھائے جائیں گے، جن میں عالمی توانائی مارکیٹ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات بھی شامل ہوں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی جبکہ مختلف صارفین پر بوجھ متوازن انداز میں تقسیم کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 830 ارب روپے کی منظوری حکومت کی طلب سے تقریباً 16 فیصد کم ہے۔ اس رقم میں ٹیرف ڈیفرنس، سابق فاٹا کے واجبات، زرعی ٹیوب ویلز کے اخراجات اور سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی شامل ہے۔
حکومت نے بجلی کے شعبے کی مالی بہتری کے لیے اصلاحات جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے، تاہم ماضی میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں کمی نہ آنے سے اس پروگرام کی مؤثریت پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے ماہرین نے تضاد قرار دیا ہے۔
حکومت نے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے ساتھ واجبات جون 2026 تک حل کرنے جبکہ کے الیکٹرک کے ساتھ تنازع دسمبر 2026 تک نمٹانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 اپریل، 2026 کو 05:38 AM
آخری تدوین: 5 اپریل، 2026



