صدر ٹرمپ کی ایران کو دھمکی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جب تک ایران کو جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ نہیں دیا جاتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی
(واشنگٹن ڈی سی) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتوار کے روز اضافہ دیکھا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
عالمی معیار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 110.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 113.60 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک سخت بیان میں کہا کہ ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگی، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کے جواب میں ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جب تک ایران کو جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ نہیں دیا جاتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی ۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل 21 مارچ کو بھی ایران کو دو روزہ الٹی میٹم دے چکے تھے، جسے بعد ازاں 6 اپریل تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم حالیہ دھمکی ان کے گزشتہ بیان سے متضاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک نے بھی توانائی تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق طلب کی بحالی مہنگی اور وقت طلب عمل ہے۔ اس کے ساتھ ہی مئی سے روزانہ 206,000 بیرل تیل کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی فراہمی میں خلل کے باعث امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ AAA کے مطابق فی گیلن قیمت 4.11 ڈالر ہو گئی ہے، جو جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 38 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں اتوار کو اسٹاک فیوچرز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈاؤ جونز فیوچرز 324 پوائنٹس (0.69 فیصد) گر گئے، جبکہ S&P 500 اور نیسڈیک فیوچرز میں بالترتیب 0.76 فیصد اور 0.91 فیصد کمی دیکھی گئی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 اپریل، 2026 کو 11:17 PM
آخری تدوین: 5 اپریل، 2026



