وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

پاکستان کا ثالثی کا کردار ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، ڈاکٹر مبشر چوہدری

W
Web Desk
8 اپریل، 2026
پاکستان کا ثالثی کا کردار ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، ڈاکٹر مبشر چوہدری

پاکستان کی ثالثی سے ایک ایسا قابلِ قبول حل سامنے آئے گا جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھے گا۔ ڈاکٹر مبشر چوہدری

(واشنگٹن ڈی سی) امریکہ میں مقیم ممتاز ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر مبشر چوہدری نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیش رفت نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا ہے۔

اپنے تجزیے میں ڈاکٹر مبشر چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، اور یہ پیش رفت مستقبل میں دیگر عالمی تنازعات، خصوصاً روس-یوکرین جنگ میں بھی پاکستان کی ممکنہ ثالثی کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے جہاں بڑے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا انعقاد ممکن ہو۔

انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے “دوسری بڑی خوشخبری” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے بعد معاشی میدان میں بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنی سیکیورٹی ضروریات کے لیے پاکستان کی جانب دیکھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں استحکام اور خوشحالی کے نئے در کھلیں گے۔

ڈاکٹر مبشر چوہدری کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں “لین دین” ناگزیر ہوگا، کیونکہ کامیاب مذاکرات وہی ہوتے ہیں جن میں دونوں فریق کچھ نہ کچھ رعایت دیتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحالی، بیلسٹک میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی جیسے معاملات زیرِ بحث ہیں، جبکہ ایران اپنے دفاعی اثاثوں اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام اس جنگ کے حق میں نہیں اور نہ ہی اس کے لیے مناسب سیاسی حمایت موجود ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے اس تنازع سے نکلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت ایک “محفوظ راستہ” تلاش کر رہی ہے تاکہ اس جنگ کا اختتام کیا جا سکے۔

ڈاکٹر مبشر چوہدری نے مزید کہا کہ اس تمام صورتحال میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے لیے ایک اہم موقع موجود ہے کہ وہ ان مذاکرات کو کامیابی سے آگے بڑھا کر اپنی سیاسی ساکھ کو مضبوط کریں، خصوصاً آئندہ صدارتی انتخابات کے تناظر میں۔

انہوں نے ایران کی مزاحمت کو بھی قابلِ ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک غیر جوہری ریاست کا سپر پاورز کے سامنے ڈٹ جانا اپنی جگہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ دونوں فریق اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم بین الاقوامی مبصرین اس جنگ کو امریکہ کی واضح فتح قرار نہیں دیں گے۔

آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ثالثی سے ایک ایسا قابلِ قبول حل سامنے آئے گا جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھے گا۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 8 اپریل، 2026 کو 02:39 PM

آخری تدوین: 8 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین